گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نے عوامی نقل و حمل کے نظام کو نجی ہاتھوں سے نکال کر دوبارہ عوامی کنٹرول میں لانے کا ایک جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف شہر کے ٹرانسپورٹ ڈھانچے کو تبدیل کیا ہے بلکہ ان کی اپنی سیاسی مقبولیت کو بھی نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ یہ فیصلہ، جسے ‘بی نیٹ ورک’ کے نام سے جانا جاتا ہے، بسوں اور ٹراموں کو ایک مربوط اور عوامی ملکیت کے نظام کے تحت لایا ہے، جس کا مقصد شہریوں کو بہتر اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اس پالیسی کے تحت، گریٹر مانچسٹر میں بسوں کی آمدورفت کو نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا ہے، جس سے مسافروں کو اب اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے کم انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کرایوں پر ایک حد مقرر کر دی گئی ہے تاکہ سفر ہر طبقے کے لیے قابل برداشت ہو۔ یہ اقدامات خاص طور پر کم آمدنی والے افراد اور طلباء کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہوئے ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ کرایوں کی حد بندی اور سروس کی بہتری نے عوامی اعتماد کو بحال کیا ہے اور زیادہ لوگوں کو نجی گاڑیوں کے بجائے عوامی ذرائع نقل و حمل استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے۔
اینڈی برنہم کا یہ اقدام، جو عوامی خدمات کو دوبارہ عوامی ملکیت میں لانے کے وسیع تر فلسفے کا حصہ ہے، نے انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا ہے جو عام لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔ اس پالیسی کی کامیابی نے انہیں نہ صرف گریٹر مانچسٹر میں بلکہ پورے برطانیہ میں ایک مضبوط سیاسی شخصیت کے طور پر ابھارا ہے۔ ان کی یہ حکمت عملی دیگر شہروں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے جہاں عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے اور اسے عوام کے لیے مزید قابل رسائی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح، مانچسٹر کی ‘بی’ بسوں اور ٹراموں نے واقعی اینڈی برنہم کے سیاسی عروج کو تقویت بخشی ہے۔




