اسلام آباد – لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، تاوان کے مطالبے اور گینگ ریپ کے ہولناک واقعے پر عوامی غم و غصہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ جوڈیشل ایکٹیوزم پینل نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک آئینی درخواست دائر کی ہے، جس میں ایک موجودہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دائر کی گئی درخواست میں زور دیا گیا ہے کہ اس سنگین جرم کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ یہ واقعہ ملک میں خواتین کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے، جس کے باعث عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے واقعات نہ صرف متاثرین بلکہ پورے معاشرے کے لیے گہرے صدمے کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا، ایک آزادانہ اور شفاف تحقیقاتی عمل ہی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ اس اقدام کا مقصد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور ملک کی ساکھ کو بحال کرنا ہے۔




