اسلام آباد: پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کر لی گئی ہیں۔ یہ مقدمہ نوجوان سعد عباسی کے خلاف درج کیا گیا ہے، جس پر گروپ کیپٹن عاصم طارق کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام ہے۔
ایئر ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈنٹ کی شکایت پر درج کی گئی ایف آئی آر میں قتل کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ یہ اقدام ایک اعلیٰ افسر کے مبینہ قتل کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ابتدائی طور پر اسے روکنے کی کوشش کے دوران گولی مارنے کا ذکر ہے۔
دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہونے سے اس کیس کی سنگینی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ملزم کو سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ پیش رفت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسے جرائم کو سنجیدگی سے لینے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے، بالخصوص جب اس میں ریاستی اہلکار شامل ہوں۔




