تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف ایرانی شرائط پر ہی کھلے گی۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس حوالے سے ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، “امریکہ نے ابھی تک یہ نہیں سیکھا کہ دھونس دھمکی اور وعدہ خلافی اب مفت نہیں رہی۔” ان کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے ایران کے اندر فوجی تنصیبات پر بڑھتے ہوئے حملوں کے ردعمل میں آیا ہے، جو خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے، اور اس پر ایران کا کنٹرول عالمی معیشت کے لیے گہرے اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے یہ وارننگ امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس پر ایرانی شرائط کا اطلاق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سمندری تجارت میں خلل کا باعث بن سکتا ہے۔ تہران کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ وہ امریکہ کی فوجی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ یہ صورتحال خطے میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے، جس پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔



