اسلام آباد – پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نجکاری کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں اسے سکڑتے ہوئے آپریشنز، عوامی اعتماد میں کمی اور بڑھتے ہوئے مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ کبھی ایشیا کی صف اول کی ایئر لائنز میں شمار کی جانے والی یہ قومی ایئر لائن 2.8 بلین امریکی ڈالر سے زائد کے مجموعی خسارے تلے دبی ہوئی ہے۔
ان سنگین چیلنجز کے پیش نظر، پی آئی اے نے اپنی بحالی اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اسی سلسلے میں، سابق ایتھوپین ایئر لائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ٹیولڈ گیبرمریم کو قومی ایئر لائن کی قیادت سونپ دی گئی ہے۔ ان کا انتخاب پی آئی اے کو دوبارہ منافع بخش بنانے اور اس کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ٹیولڈ گیبرمریم کو ایک ایسے وقت میں یہ ذمہ داری دی گئی ہے جب پی آئی اے کو نہ صرف مالیاتی بحران سے نکالنا ہے بلکہ اسے جدید ایوی ایشن کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور مسافروں کا اعتماد دوبارہ جیتنا بھی ہے۔ ایتھوپین ایئر لائنز کو کامیابی سے چلانے کا ان کا تجربہ پی آئی اے کی انتظامیہ اور حکومت کے لیے امید کی کرن ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی قیادت میں پی آئی اے ایک بار پھر اپنی سابقہ شان و شوکت حاصل کر سکے گی۔
