کراچی: جامعہ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے حالیہ داخلہ ٹیسٹ کے نتائج نے سندھ کے سرکاری تعلیمی بورڈز، بالخصوص اندرون سندھ کے بورڈز کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان نتائج نے صوبے میں تعلیم کے معیار اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی کی ایک مایوس کن تصویر پیش کی ہے، جہاں ہزاروں طلباء داخلہ ٹیسٹ میں مطلوبہ معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔
تفصیلات کے مطابق، این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ میں شریک ہونے والے طلباء کی ایک بڑی تعداد، خصوصاً اندرون سندھ کے مختلف بورڈز سے تعلق رکھنے والے امیدوار، امتحان میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ یہ صورتحال تعلیمی بورڈز کے امتحانی نظام، نصاب کی تدریس کے معیار اور اساتذہ کی تربیت پر گہرے سوالات کھڑے کرتی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ نتائج صرف طلباء کی ناکامی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی ناکامی کا مظہر ہیں، جو طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لیے تیار کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، سندھ حکومت اور متعلقہ تعلیمی حکام پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر تعلیمی بورڈز کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور اصلاحات کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ یہ ضروری ہے کہ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں میں تدریس کے معیار کو بہتر بنایا جائے، اساتذہ کی تربیت پر توجہ دی جائے اور امتحانی نظام میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر، صوبے کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا اور وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔



