اسلام آباد ہائی کورٹ نے این سی سی آئی اے کی جانب سے گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے 43 کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواستوں پر جواب جمع نہ کروانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اس اہم کیس کی سماعت 24 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔
دورانِ سماعت، عدالت نے این سی سی آئی اے کے نمائندے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم انسانی معاملہ ہے اور اس پر جواب جمع نہ کروانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ سماعت پر ہر صورت تفصیلی جواب جمع کروایا جائے۔ یہ درخواستیں این سی سی آئی اے کے ان 43 ملازمین نے دائر کی ہیں جو طویل عرصے سے کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں اور اپنی ملازمتوں کو مستقل کرنے کے خواہاں ہیں۔
کیس کی آئندہ سماعت 24 جولائی کو مقرر کی گئی ہے، جہاں این سی سی آئی اے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنا تفصیلی جواب عدالت میں پیش کرے گا۔ ان ملازمین کا موقف ہے کہ وہ کئی سالوں سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہیں مستقل کیا جانا چاہیے۔ عدالت کی جانب سے اظہارِ برہمی کو ملازمین کے حق میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ان کی مستقلی کی امیدوں کو تقویت دے رہا ہے۔



