آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس اہم سمندری گزرگاہ پر کسی بھی قسم کے اضافی بوجھ کے خلاف یورپی یونین اور چین نے اپنا دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کے احترام پر زور دیا ہے۔ یہ آبنائے عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اور اس پر عائد ہونے والا کوئی بھی ٹیکس عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ایسٹونیا کی وزیر اعظم کایا کالاس نے اس معاملے پر یورپی یونین کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کا ہر صورت احترام ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سمندری راستوں کی بلا روک ٹوک رسائی عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اضافی بوجھ عالمی تجارت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ان کا یہ بیان عالمی برادری کے اس وسیع تر اتفاق رائے کی عکاسی کرتا ہے کہ سمندری آزادیوں کو برقرار رکھنا عالمی امن اور خوشحالی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی ترسیل کی گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً ایک تہائی سپلائی گزرتی ہے۔ اس حساس علاقے پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز نہ صرف عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور سمندری حقوق کی خلاف ورزی بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ یورپی یونین اور چین کا یہ مشترکہ اور مضبوط مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں سمندری آزادیوں کے تحفظ اور عالمی تجارت کی ہموار روانی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔



