برطانیہ میں محققین نے ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں کے بعد گرمی سے متعلق 2,700 اموات کا تخمینہ لگایا ہے۔ یہ اموات ملک میں غیر معمولی اور شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں ہوئی ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہیں کہ گرمی کی لہریں اب صرف ایک موسمی رجحان نہیں بلکہ ایک صحت عامہ کا بحران بن چکی ہیں۔
محققین کے مطابق، گزشتہ جون میں آنے والی گرمی کی لہر کے دوران درجہ حرارت 37.7 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا۔ یہ درجہ حرارت تقریباً 50 سال پرانے ریکارڈ کو توڑنے والا تھا۔ اس طرح کے غیر معمولی بلند درجہ حرارت نے خاص طور پر کمزور افراد، جیسے کہ بزرگ اور پہلے سے بیمار افراد کی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب کیے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں اور ان سے ہونے والی اموات موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر حکمت عملی اور حفاظتی اقدامات اپنائیں، جن میں عوام کو گرمی سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کرنا اور ہنگامی خدمات کو مضبوط بنانا شامل ہے۔



