پاکستان میں ریبیز (Rabies) سے ہونے والی اموات میں اضافے کے پیش نظر، حکومت نے اس مہلک بیماری کی روک تھام کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں ریبیز کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنا اور انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرنا ہے۔ حال ہی میں ایک وفد نے اس بات پر زور دیا کہ بیماری کی نگرانی اور اس پر ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے ایک مناسب قومی ریبیز سرویلنس سسٹم (National Rabies Surveillance System) کی اشد ضرورت ہے۔
وفد نے اپنی سفارشات میں واضح کیا کہ موجودہ نظام میں خامیوں کی وجہ سے ریبیز کے کیسز کی درست معلومات دستیاب نہیں ہو پاتیں، جس کے نتیجے میں مؤثر اقدامات میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ ایک مضبوط سرویلنس سسٹم کے قیام سے نہ صرف بیماری کے پھیلاؤ کی بروقت نشاندہی ہو سکے گی بلکہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر حفاظتی اقدامات بھی کیے جا سکیں گے۔ یہ نظام ڈیٹا اکٹھا کرنے، تجزیہ کرنے اور پالیسی سازوں کو باخبر فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرے گا، جس سے صحت عامہ کے چیلنجز سے نمٹنے میں بہتری آئے گی۔
قومی حکمت عملی صرف نگرانی کے نظام تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس میں کئی دیگر اہم پہلو بھی شامل ہوں گے۔ ان میں کتوں کی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن، ریبیز سے متاثرہ افراد کے لیے بروقت علاج کی فراہمی، اور عوام میں بیماری سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی مہمات شامل ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ اس بیماری کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ پاکستان کو ریبیز سے پاک ملک بنایا جا سکے۔ یہ حکمت عملی صحت عامہ کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔



