یوگنڈا میں ایبولا کے حالیہ پھیلاؤ کے دوران زیر علاج آخری مریض کو بھی ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ملک میں اس مہلک وائرس کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جس سے صحت کے حکام اور عوام میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔
تاہم، عالمی ادارہ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا کے اصل کیسز کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دو سے چار گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ آخری مریض کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے، لیکن وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نگرانی اور احتیاطی تدابیر کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
ایبولا ایک انتہائی مہلک وائرس ہے جو افریقی ممالک میں وقتاً فوقتاً پھیلتا رہتا ہے۔ یوگنڈا کی حکومت اور صحت کے حکام نے اس وبا پر قابو پانے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے ہیں۔ آخری مریض کے ڈسچارج ہونے کے بعد، اب ملک میں 42 دن کی نگرانی کا دورانیہ شروع ہو گا، جس کے بعد اگر کوئی نیا کیس سامنے نہ آیا تو باضابطہ طور پر وبا کے خاتمے کا اعلان کیا جا سکے گا۔




