وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پاکستان کی معیشت پر سنگین منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور دیگر اقتصادی چیلنجز پاکستان کے لیے نئے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، جس سے ملک کی پہلے سے نازک معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم کو حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس فی الحال پٹرولیم کے وافر ذخائر موجود ہیں جو ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ صورتحال اگرچہ فوری طور پر اطمینان بخش ہے، تاہم وزیراعظم نے مستقبل کے ممکنہ چیلنجز کے پیش نظر محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں خلل پاکستان کے درآمدی بل پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھنے سے نہ صرف تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں بلکہ یہ خطے سے ترسیلات زر (remittances) پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے، جو پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون ہیں۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستانی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔



