لاہور: پنجاب حکومت نے محکمہ آبپاشی کو ‘ہائی الرٹ’ کیٹیگری کے تحت سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا حکم دیا ہے، کیونکہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے باعث دریائی پانی کے بہاؤ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ حکام کو دریائی بہاؤ کے بارے میں بھارت سے معلومات نہ ملنے کی وجہ سے ‘کم قابل اعتبار ذرائع’ پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
ڈان کو لاہور کمشنر نعمان یوسف کی زیر صدارت ایک اجلاس سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ محکمہ آبپاشی سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامات کر رہا ہے، جو کہ درست اندازہ لگانے کے لیے ناکافی ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ سیلاب کی صورتحال اور انتظامات سے متعلق ایک حالیہ اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے ایک سینئر عہدیدار نے انکشاف کیا کہ بھارت گزشتہ سال اپریل میں سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بعد سے مسلسل ڈیٹا شیئر کرنے سے گریز کر رہا ہے۔
اس معلومات کی روشنی میں، کمشنر نے محکمہ آبپاشی کو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ عہدیدار نے کمشنر کے حوالے سے بتایا کہ ‘اگر وہ (بھارت) معلومات (دریائی بہاؤ، سیلاب کی صورتحال وغیرہ سے متعلق) نہیں دے رہے، تو ہمیں بہت زیادہ چوکس رہنا چاہیے۔ لہٰذا، اگر سیلاب کی صورتحال معمول کے مطابق ہے، تو آپ کو درمیانے درجے کے سیلاب کے لیے درکار انتظامات کرنے ہوں گے، اور اگر صورتحال درمیانے درجے کی ہے، تو ہائی فلڈ کیٹیگری کے تحت درکار انتظامات کریں۔’ اس کے علاوہ، دریائے راوی کے کنارے سے ‘عارضی تجاوزات’ کو ہٹانے کے لیے بھی اقدامات زیر غور ہیں۔

