واشنگٹن: امریکہ میں بین الاقوامی طلباء کے لیے امیگریشن پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ نے نئے قوانین متعارف کرائے ہیں۔ ان قوانین کے تحت زیادہ تر طلباء کے ویزوں کی مدت چار سال تک محدود کر دی گئی ہے۔
قبل ازیں، بین الاقوامی طلباء اپنے تعلیمی پروگرام کی مکمل مدت تک امریکہ میں قیام کر سکتے تھے، تاہم اب اس نظام میں تبدیلی آ گئی ہے۔ نئے قواعد و ضوابط کے تحت نہ صرف ویزوں کی مدت کو محدود کیا گیا ہے بلکہ طلباء کے لیے پروگرام کی تبدیلی، اداروں میں منتقلی اور گریجویشن کے بعد کے قیام کے حوالے سے بھی سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ اس تبدیلی سے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہزاروں بین الاقوامی طلباء متاثر ہو سکتے ہیں، جنہیں اب اپنے تعلیمی منصوبوں اور مستقبل کے حوالے سے نئی منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔

