پاکستان میں ریکوڈک تانبے کی کان، جو چین کے تعاون سے چلائی جا رہی ہے، پر حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد حکومت نے غیر ملکی منصوبوں بالخصوص چینی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ اعلان بلوچستان میں غیر ملکی منصوبوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں 2010 کی ایک تصویر میں ریکوڈک کان کے مجوزہ مقام کے قریب کی پہاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
ریاستی وزیر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غیر ملکی منصوبوں کے لیے سیکیورٹی کو نمایاں طور پر بڑھا دیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے اور ان کے عملے و اثاثوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ریکوڈک کان کے آپریٹر نے بھی حکام سے فرنس آئل کی نقل و حمل میں مدد کی درخواست کی ہے، جو کان کے آپریشنز کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔ یہ درخواست منصوبے کی ہموار کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے لاجسٹک سپورٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
پاکستان میں چینی سرمایہ کاری، خاص طور پر ریکوڈک جیسے بڑے منصوبوں میں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے۔ چین نے پاکستان میں اپنے منصوبوں کے لیے سیکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکومت نے سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف موجودہ منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا بھی ہے۔

