لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن، انجینئر اور تعلیمی مصلح سونم وانگچک نے ایک چونکا دینے والا اعلان کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ 20 جولائی تک ہر قیمت پر زندہ رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوئے تو وہ بھوت بن کر واپس آئیں گے۔ یہ بیان ان کے جاری موسمیاتی روزے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جو لداخ کے نازک ماحولیاتی نظام اور مقامی ثقافت کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
وانگچک، جو اپنی اختراعات اور تعلیمی اصلاحات کے لیے عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں، لداخ کو بھارتی آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس شمولیت سے لداخ کی منفرد شناخت، اس کے قدرتی وسائل اور قبائلی آبادی کے حقوق کو تحفظ ملے گا۔ چھٹا شیڈول شمال مشرقی بھارت کے کچھ قبائلی علاقوں کو خودمختاری اور خصوصی انتظامی اختیارات فراہم کرتا ہے، اور وانگچک کا خیال ہے کہ لداخ کو بھی اسی طرح کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ طویل روزہ حکومتی توجہ حاصل کرنے اور اپنے مطالبات منوانے کی ایک شدید کوشش ہے۔
سونم وانگچک کا یہ ڈرامائی اعلان ان کے غیر متزلزل عزم اور اپنے مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ 20 جولائی کی تاریخ ان کے احتجاج میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، اور اس سے قبل ان کی صحت کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ان کے حامی اور دنیا بھر کے ماحولیاتی کارکن ان کی حمایت میں کھڑے ہیں، اور ان کی اس جدوجہد کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ اب سب کی نظریں 20 جولائی پر مرکوز ہیں کہ آیا حکومت ان کے مطالبات پر کوئی مثبت ردعمل دیتی ہے یا نہیں۔

