پاکستان میں سونے کی قیمتوں نے ایک بار پھر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ بین الاقوامی اور مقامی مارکیٹ میں اضافے کے بعد، فی تولہ سونے کی قیمت میں 4,700 روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اب ایک تولہ سونے کی قیمت 429,236 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ ملک میں مہنگائی اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ، اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ جب مقامی کرنسی کمزور ہوتی ہے اور افراط زر بڑھتا ہے، تو سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب اور قیمت دونوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مقامی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اس ریکارڈ اضافے سے عام صارفین اور خاص طور پر شادی بیاہ کے سیزن میں زیورات خریدنے والوں پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ مہنگے سونے کے باعث بہت سے لوگ اپنی خریداری محدود کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں یا پھر کم وزن کے زیورات کا انتخاب کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی جیولری مارکیٹ میں بھی سست روی پیدا کر دی ہے، جہاں خریداروں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔


