صدر ٹرمپ نے امریکہ کے ایک اہم تجارتی شراکت دار کینیڈا پر نئے محصولات (ٹیرف) عائد کر دیے ہیں۔ ان محصولات کا بنیادی مقصد کینیڈا سے تجارتی رعایتیں حاصل کرنا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ یہ اقدام امریکہ کی ‘پہلے امریکہ’ کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت وہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈال کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔
تاہم، کینیڈین حکومت اور عوام اس تجارتی کشیدگی میں اضافے کے لیے پہلے ہی سے تیار تھے۔ کینیڈا کے مرکزی بینک کے سابق گورنر اور ایک اہم عالمی مالیاتی شخصیت مارک کارنی نے اس صورتحال پر اپنا مضبوط موقف برقرار رکھا ہے، جو کینیڈا کے پختہ ارادے کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ کینیڈا نے اس ممکنہ اقدام کے پیش نظر اپنی حکمت عملی پہلے ہی سے تیار کر رکھی تھی تاکہ اس کے معاشی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
یہ اقدام امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازعے کو مزید بڑھاوا دے گا، جس کے علاقائی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ کینیڈا کی جانب سے اس صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے پہلے سے کی گئی تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی دباؤ اور کینیڈا کی مزاحمت کے درمیان یہ تجارتی جنگ کس رخ پر جاتی ہے اور اس کے عالمی تجارتی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔


