فرانس کو حالیہ دنوں میں شدید گرمی کی لہر کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے نتیجے میں 5,700 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے سنگین اثرات کی عکاسی کرتے ہیں اور عوامی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔
صحت حکام کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دو ہفتوں کے اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 21,674 افراد مختلف وجوہات کی بنا پر ہلاک ہوئے، جن میں سے ایک بڑا حصہ شدید گرمی سے براہ راست متاثر ہونے والوں کا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی لہر نے خاص طور پر بزرگ افراد اور پہلے سے بیمار لوگوں کو زیادہ متاثر کیا، جن کے لیے بلند درجہ حرارت جان لیوا ثابت ہوا۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں گرمی کی شدت اور دورانیے میں اضافہ ہو رہا ہے، اور فرانس میں ہونے والی یہ اموات اس عالمی رجحان کی ایک افسوسناک مثال ہیں۔ حکومت نے شہریوں کو گرمی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں دن کے اوقات میں گھروں میں رہنا، پانی کا زیادہ استعمال کرنا اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنا شامل ہے۔ اس واقعے نے عوامی صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے موسمیاتی دباؤ کو نمایاں کیا ہے۔



