اقوام متحدہ کے ایک سینئر اہلکار، مارٹن گریفتھس، نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کامیاب سفارتکاری کے لیے دونوں فریقوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ وہ اپنی موجودہ حکمت عملیوں میں “ہار” چکے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی حل کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ گریفتھس کا یہ تبصرہ عالمی برادری کی جانب سے دونوں طاقتوں کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
گریفتھس کے بقول، “ہار تسلیم کرنے” کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ایک فریق کو مکمل طور پر شکست ہوئی ہے، بلکہ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کے موجودہ نقطہ نظر اور سخت موقف نے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دونوں ممالک کو اپنی سابقہ پالیسیوں اور مطالبات پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور ایک ایسے مشترکہ میدان کی تلاش کرنی ہوگی جہاں مفاہمت اور لچک کی گنجائش ہو۔ سفارتکاری کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کی بجائے حقیقت پسندانہ توقعات کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کو بھی متاثر کیا ہے۔ گریفتھس کا یہ بیان ایک یاد دہانی ہے کہ تعطل کو توڑنے اور آگے بڑھنے کے لیے ایک نئی سوچ اور قربانیوں کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں ممالک اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ ان کے موجودہ راستے نے انہیں مکمل کامیابی نہیں دلائی، تو یہ سفارتی پیش رفت کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں تناؤ میں کمی اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔



