جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا کے انتہائی مصروف اور تھکا دینے والے شیڈول کے دوران ان کی نیند کے اوقات کار نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔ ان کے مبینہ طور پر بہت کم نیند لینے کے معمول نے کئی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور صحت کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم کشیدا دن میں صرف تین سے چار گھنٹے کی نیند لیتے ہیں، جو ایک عالمی رہنما کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ ان کا یہ معمول ان کے سخت دفتری اوقات، مسلسل میٹنگز اور پالیسی سازی کے پیچیدہ عمل کی عکاسی کرتا ہے، جہاں انہیں چوبیس گھنٹے دستیاب رہنا پڑتا ہے۔ ان کی یہ انتھک محنت جاپانی ثقافت میں کام کی اخلاقیات کی عکاسی کرتی ہے، لیکن اس کے ممکنہ صحت کے اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تاہم، صحت کے ماہرین اس طرح کے نیند کے شیڈول پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل نیند کی کمی انسان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت، یادداشت، فیصلہ سازی کی قوت اور مجموعی جسمانی و ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس صورتحال میں، ایک ملک کے سربراہ کے لیے مناسب نیند کا حصول ان کی کارکردگی اور ملک کے لیے اہم فیصلوں پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے لیے کام اور زندگی کے توازن کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ذاتی صحت کو نظر انداز کرنا نہ صرف فرد بلکہ اس کے زیر انتظام اداروں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔


