بھارت کے معروف ماہر تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے لداخ کے مطالبات کے حق میں اپنی بھوک ہڑتال کے 26ویں دن یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔ اس طویل بھوک ہڑتال کے دوران ان کا 11 کلو وزن کم ہو چکا ہے، جس سے ان کی صحت کے بارے میں شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ وانگچک، جو لداخ کے منفرد ماحولیاتی نظام اور ثقافت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال لداخ کے لیے آئینی تحفظات، خاص طور پر آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت ریاستی درجہ اور زمین، روزگار اور ثقافت کے تحفظ کے مطالبات پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لداخ کو مرکزی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں لانے کے بعد اس کے ماحولیاتی توازن اور مقامی آبادی کے حقوق کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ وانگچک، جنہیں فلم “تھری ایڈیٹس” کے مرکزی کردار کے لیے بھی ایک تحریک سمجھا جاتا ہے، نے لداخ کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
لیہہ میں جاری اس احتجاجی تحریک کو مقامی آبادی کی وسیع حمایت حاصل ہے، جہاں ہزاروں افراد نے وانگچک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہو کر ان کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔ ڈاکٹرز ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، لیکن وانگچک نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔ یہ تحریک اب نہ صرف لداخ بلکہ پورے ملک میں توجہ کا مرکز بن چکی ہے، اور حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ان کے جائز مطالبات پر غور کرے۔



