ٹرمپ: جوہری معاہدے کے لیے سعودی عرب کو اسرائیل تسلیم کرنا ہوگا

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کے حصول میں مدد کے لیے مجوزہ تاریخی معاہدہ اس بات پر منحصر ہے کہ ریاض اسرائیل کو تسلیم کرے۔ ٹرمپ کے مطابق، اس معاہدے کی تکمیل کے لیے سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) میں شامل ہونا پڑے گا۔

ابراہیمی معاہدے، جو ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں طے پائے تھے، اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت تھے۔ ان معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ سعودی عرب کا ان معاہدوں میں شامل ہونا مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جائے گی اور یہ خطے میں اسرائیل کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی ترقی میں مدد فراہم کرنے کا یہ اہم معاہدہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکے گا جب سعودی قیادت اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرے۔ ان کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ، خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ، مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ یہ معاہدہ سعودی عرب کی توانائی کی ضروریات اور خطے میں اس کے اسٹریٹجک کردار کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔

  • Related Posts

    اردن کا شام میں جوابی مہلک حملہ، چرچ پر حملے کا بدلہ لیا گیا

    اردن نے شام میں ایک مہلک فضائی حملہ کیا ہے، جسے ایک چرچ پر ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حملے…

    سربیا میں طلباء کی انتخابی فتح: بلغراد میں دوسری رات بھی جشن کا سماں

    سربیا کے دارالحکومت بلغراد کی سڑکوں پر ہزاروں افراد دوسری مسلسل رات بھی جمع ہوئے تاکہ طلباء کی قیادت میں چلنے والی تحریک کی حالیہ انتخابی فتح کا جشن منا…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔