یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے ایک آئل ٹینکر پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ نے ایران سے منسلک اہداف پر مزید فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے اور عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم نے، جس نے پہلے سعودی عرب کے خلاف “بحری پابندی” کا اعلان کیا تھا، دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک اور بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے ترجمان نے حملے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے اور جب تک سعودی اتحاد یمن پر اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا، ان کے حملے جاری رہیں گے۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایران سے منسلک اہداف پر مزید حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی تیل کی سپلائی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔



