پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور بیرسٹر علی ظفر نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا فارم 47 کے حوالے سے حالیہ موقف تحریک انصاف کے بیانیے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ یہ بیان عام انتخابات 2024 کے بعد سامنے آنے والی انتخابی بے ضابطگیوں اور نتائج پر جاری بحث کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔
بیرسٹر علی ظفر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف شروع سے ہی فارم 47 میں مبینہ رد و بدل اور انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق، پیپلز پارٹی نے بھی اب کئی حلقوں میں فارم 47 کی بنیاد پر نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مشترکہ تشویش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہی ہیں، اگرچہ ان کے مقاصد اور دائرہ کار مختلف ہو سکتے ہیں۔
علی ظفر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں نئی حکومت کی تشکیل اور انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت پر بحث جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فارم 47 پر پیپلز پارٹی کا موقف، جو کہ انتخابی نتائج کی حتمی دستاویز ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ یہ صورتحال ملک کے سیاسی منظرنامے میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہے اور انتخابی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے تاکہ آئندہ انتخابات کو مزید شفاف اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔




