امریکہ نے جبری مشقت کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے درجنوں تجارتی شراکت داروں پر محصولات کی ایک نئی لہر عائد کر دی ہے۔ یہ نئے محصولات ایک عارضی عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو فروری میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے محصولات کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد نافذ کی گئی تھی۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عالمی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے ضروری ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ ممالک میں جبری مشقت کے ذریعے تیار کی جانے والی مصنوعات امریکی منڈیوں میں داخل ہو رہی ہیں، جس سے نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ منصفانہ تجارت کے اصول بھی پامال ہو رہے ہیں۔
فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے محصولات سے متعلق ایک سابقہ قانون کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد ایک عارضی عالمی ڈیوٹی نافذ کی گئی تھی۔ اب ان نئے محصولات کے نفاذ سے امریکہ اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی لیبر پالیسیوں میں بہتری لائیں اور جبری مشقت کے تمام پہلوؤں کو ختم کریں۔ ان اقدامات سے عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور متاثرہ ممالک کی جانب سے ردعمل بھی متوقع ہے۔






