یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی تنظیم نے ایک اہم بحری راستے میں سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازعے اور عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ دھمکی خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے رہی ہے اور بین الاقوامی برادری میں تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
حوثیوں کی جانب سے یہ تازہ دھمکی بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر ان کے حالیہ حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے عالمی شپنگ کو شدید متاثر کیا ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب آبنائے دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں سے ہیں، جہاں سے عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ان راستوں پر حملوں سے نہ صرف شپنگ کمپنیوں کو اپنے راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہے اور خطے میں براہ راست فوجی تصادم کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ اس سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔



