نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام اور اقتصادی ترقی کا حصول صرف افغانستان کی سرزمین سے پھیلنے والی دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم، علاقائی طور پر مربوط اور خوشحال افغانستان دیکھنا چاہتا ہے جو اپنے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام ایس سی او رکن ممالک اور اس سے باہر کے بہترین مفاد میں ہوگا۔
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ اس وقت افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی کا خطرہ پاکستان کے لیے سب سے سنگین سکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے افغان طالبان حکومت کی نگرانی اور سہولت کاری میں بھرتی، تربیت اور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حمایت کے ‘مضبوط شواہد’ موجود ہیں اور پاکستان اس خطرے کی زد میں سب سے آگے ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ رواں سال اب تک 2,000 سے زائد دہشت گرد حملوں میں 560 سے زائد پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ ان دہشت گردانہ واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت پائی گئی ہے۔ اسحاق ڈار نے ایس سی او پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرے کہ وہ عالمی برادری سے کیے گئے اپنے انسداد دہشت گردی کے وعدوں کا احترام کرے۔






