آزاد جموں و کشمیر میں پہلے مرحلے کے انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے الیکٹرک بسوں کی آمد نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن نے انتخابات سے قبل نئی اسکیموں کے آغاز اور سرکاری وسائل کے استعمال کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ انتخابات سے عین قبل کسی بھی قسم کے ترقیاتی منصوبوں یا عوامی فلاح و بہبود کے پروگراموں کا اعلان یا ان پر عمل درآمد انتخابی قوانین کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ کمیشن کا موقف ہے کہ ایسے اقدامات ووٹروں کو متاثر کرنے اور کسی ایک سیاسی جماعت کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچانے کے مترادف ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے الیکٹرک بسوں کی فراہمی کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کریں۔ اس تنازع نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتا ہے اور کیا کوئی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔



