صدر ٹرمپ کی جانب سے ان افراد کو ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے جنہیں وہ غیر وفادار سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے کی تازہ کڑی ٹیکساس میں سینیٹر جان کارنن کی شکست ہے۔ منگل کو ہونے والے رن آف انتخابات میں کارنن کی شکست نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کے سیاسی اثر و رسوخ کو نمایاں کر دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریپبلکن پارٹی میں ان کی گرفت اب بھی مضبوط ہے۔
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے ایسے ریپبلکن رہنماؤں پر تنقید کرتے رہے ہیں جو ان کی پالیسیوں یا فیصلوں کی مکمل حمایت نہیں کرتے۔ سینیٹر کارنن کی شکست کو اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جہاں ٹرمپ اپنے حامیوں کو ایسے امیدواروں کے خلاف کھڑا کرتے ہیں جو ان کے ایجنڈے سے ہٹ کر چلتے ہیں۔ یہ شکست ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات اور صدر کی مضبوط گرفت کو ظاہر کرتی ہے، اور یہ پیغام دیتی ہے کہ پارٹی میں وفاداری کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔
کارنن کی شکست کے بعد اب یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ سینیٹ میں ریپبلکنز کے ساتھ صدر ٹرمپ کے تعلقات کس حد تک بحال ہو پائیں گے۔ بہت سے سینیٹرز صدر کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن انہیں اپنی سیاسی بقا کے لیے ٹرمپ کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس طرح کی شکستیں مستقبل میں ریپبلکن سینیٹرز کے لیے ایک انتباہ ہیں کہ انہیں صدر کی وفاداری کے امتحان سے گزرنا پڑ سکتا ہے، جس سے پارٹی کے اندر مزید تقسیم کا خدشہ ہے۔



