اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) نے ایک تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ایشیائی ممالک میں قائم فراڈ مراکز میں انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان سے خبردار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہزاروں افراد کو پرکشش لیکن جعلی ملازمت کے اشتہارات کے ذریعے دھوکہ دے کر ان مراکز میں لایا جا رہا ہے جہاں انہیں سنگین استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
IOM کا کہنا ہے کہ ان متاثرین کو، جو بہتر روزگار کے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں، پہلے تو آن لائن پلیٹ فارمز پر جھوٹے اشتہارات کے ذریعے راغب کیا جاتا ہے۔ ایک بار جب وہ ان مراکز میں پہنچ جاتے ہیں، تو ان کے شناختی دستاویزات اور پاسپورٹ چھین لیے جاتے ہیں، جس سے ان کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے اور وہ مکمل طور پر اسمگلروں کے رحم و کرم پر آ جاتے ہیں۔ انہیں جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے اور انہیں سائبر فراڈ، آن لائن جوئے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
یہ صورتحال جدید غلامی کی ایک نئی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں متاثرین کو شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں فرار ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ IOM نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کرے، جس میں متاثرین کی شناخت، ان کی بازیابی اور انہیں تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، لوگوں کو ایسے جعلی اشتہارات سے بچنے اور ملازمت کے مواقع کی تصدیق کرنے کے لیے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مزید افراد اس جال میں پھنسنے سے بچ سکیں۔



