سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جمع ہونے والے لاکھوں حجاج کرام نے آج حج کے آخری مناسک میں سے ایک اہم رسم، رمی جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنا) ادا کی۔ یہ رسم منیٰ میں بڑے، درمیانے اور چھوٹے جمرات پر ادا کی جاتی ہے، جہاں حجاج کرام علامتی طور پر شیطان کو کنکریاں مار کر اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔
اس سال دنیا بھر سے 1.7 ملین سے زائد افراد فریضہ حج ادا کر رہے ہیں، جو اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ حج کا یہ عظیم اجتماع مسلمانوں کے اتحاد، مساوات اور روحانیت کا عکاس ہے۔ لاکھوں حجاج کرام نے گزشتہ دنوں عرفات کے میدان میں وقوف کیا اور مزدلفہ میں رات گزاری، جس کے بعد وہ منیٰ واپس لوٹے ہیں۔
رمی جمرات کے بعد حجاج کرام قربانی کرتے ہیں اور پھر سر منڈوا کر یا بال کٹوا کر احرام کھول دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ طوافِ افاضہ کے لیے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا رخ کرتے ہیں، جو حج کا ایک اور اہم رکن ہے۔ یہ مناسک حج کے اختتام اور عید الاضحیٰ کے آغاز کی علامت ہیں۔



