دنیا بھر میں مسلمان آج عید الاضحیٰ مذہبی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منا رہے ہیں۔ یہ مبارک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر ان کی مکمل فرمانبرداری کی یاد دلاتا ہے۔ سپین میں مقیم اردو بولنے والے قارئین کے لیے، یہ خبر دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مسلم کمیونٹی کے اتحاد اور بھائی چارے کی عکاسی کرتی ہے۔
عید الاضحیٰ کی تقریبات کا آغاز صبح سویرے مساجد اور کھلے میدانوں میں ہونے والی خصوصی نماز عید سے ہوا۔ لاکھوں فرزندانِ توحید نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر امت مسلمہ کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے دعائیں کیں۔ نماز کے بعد، مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کے جانوروں کی تیاری میں مصروف ہو گئے، جہاں گائے، بکرے، دنبے اور اونٹ اللہ کی راہ میں قربان کیے جا رہے ہیں۔
قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے – ایک حصہ غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور تیسرا اپنے گھر والوں کے لیے۔ یہ عمل نہ صرف ایثار اور قربانی کے جذبے کو فروغ دیتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں، چاہے وہ ایشیا ہو، افریقہ ہو، یورپ ہو یا امریکہ، مسلمان ایک ہی عقیدے اور جذبے کے تحت اس عظیم تہوار کو منا کر اپنی مذہبی شناخت اور اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔



