امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے اندر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج ایران کے اندر موجود اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات اور اس کے اتحادیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد واشنگٹن کی جانب سے جوابی کارروائی کے اشارے دیے جا رہے تھے۔ تاہم، حملوں کی نوعیت، نشانہ بنائے جانے والے مخصوص اہداف اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
ان فضائی حملوں سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور عالمی سطح پر اس کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔






