امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے جنوبی ایران کے کئی شہروں پر “شدید حملوں کی لہر” کے تحت بمباری کی ہے۔ ان حملوں کو “طاقتور” قرار دیا جا رہا ہے اور یہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ کارروائی اردن میں امریکی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد کی گئی ہے، جس میں متعدد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ امریکہ نے اس حملے کا ذمہ دار ایران سے منسلک گروہوں کو ٹھہرایا تھا اور جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا تھا۔ یہ تازہ حملے اسی عزم کی تکمیل سمجھے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر براہ راست حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر تنازعے کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ عالمی برادری ان پیش رفتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔







