نیویارک: معروف مصنف سلمان رشدی پر 2022 میں حملہ کرنے والے ہادی مطر کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کی مدد کرنے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں آیا ہے جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی تھی اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی تھی۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ہادی مطر نے 2022 میں ایک ادبی کانفرنس کے دوران سلمان رشدی پر چاقو سے متعدد بار حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں رشدی شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہیں کئی سرجریوں سے گزرنا پڑا تھا، جس میں ایک آنکھ کی بینائی بھی متاثر ہوئی۔ اس جرم کی سنگینی کے پیش نظر، ہادی مطر کو اپنی باقی زندگی جیل میں گزارنی پڑ سکتی ہے۔
سلمان رشدی اپنی متنازعہ کتاب ‘شیطانی آیات’ کی اشاعت کے بعد سے ہی اسلامی دنیا میں شدید تنقید کی زد میں رہے ہیں اور ان کے خلاف ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کی جانب سے فتویٰ بھی جاری کیا گیا تھا۔ ہادی مطر پر غیر ملکی دہشت گرد گروہ کی معاونت کا الزام اس مقدمے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حملہ محض ایک انفرادی عمل نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے وسیع تر محرکات کارفرما تھے۔







