پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں بدھ کی رات دہشت گردوں کے حملے میں ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) سمیت نو پولیس اہلکار شہید اور 28 دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ خزینہ بانڈہ چیک پوسٹ پر کیا گیا۔
صوبائی انسپکٹر جنرل (آئی جی) ذوالفقار حمید کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چیک پوسٹ پر ‘فتنہ الخوارج’ نے حملہ کیا، یہ اصطلاح ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ آئی جی نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے بہادری سے جواب دیا، جبکہ اضافی نفری بھی روانہ کی گئی، تاہم دہشت گردوں نے اس دستے پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک بکتر بند گاڑی کو نقصان پہنچا۔ آئی جی نے مزید کہا کہ ان چیلنجز کے باوجود اہلکاروں نے بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت سے مقابلہ کیا۔
آئی جی کے مطابق، پولیس کے جوابی کارروائی میں پندرہ ‘خارجی’ ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے شدید اور طویل تبادلے کے دوران ڈی ایس پی دیار خان سمیت نو پولیس اہلکار شہید اور 28 دیگر زخمی ہوئے۔ آئی جی نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا پولیس کا حوصلہ اور عزم مضبوط ہے اور صوبے کے ہر کونے سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی جنگ جاری رہے گی۔ ایک سینئر پولیس اہلکار نے بھی ڈان سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی اور بتایا کہ دہشت گردوں کے حملے کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس کے علاوہ، پشاور کے تھانہ متنی کی حدود میں واقع ادیزئی کے علاقے میں بھی ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا گیا۔






