نیوزی لینڈ کے اعلیٰ سفارتکار ونسٹن پیٹرز کو اپنے ایک متنازعہ بیان پر چینی سفارت خانے کی جانب سے شدید ردعمل اور باضابطہ شکایت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ واقعہ نسل پرستی کے الزامات کے گرد ایک نئے سفارتی تنازعے کو جنم دے رہا ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
پیٹرز نے مبینہ طور پر کہا تھا، “اپنے ملک واپس چلے جاؤ۔ وہاں وہ فلیٹ فش کی طرح جھوٹ بولتے ہیں، لیکن یہاں وہ اس طرح جھوٹ نہیں بولتے۔” یہ بیان چینی کمیونٹی کے افراد کو ان کے آبائی ملک واپس جانے کا مشورہ دینے اور ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگانے کے مترادف ہے، جس نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس بیان کو فوری طور پر نسل پرستانہ اور غیر سفارتی قرار دیا گیا۔
چینی سفارت خانے نے اس بیان کو ‘مکمل طور پر ناقابل قبول’ قرار دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کی حکومت سے فوری وضاحت طلب کی ہے۔ سفارت خانے نے زور دیا ہے کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نیوزی لینڈ میں مقیم چینی کمیونٹی کے جذبات کو مجروح کر سکتے ہیں۔ یہ واقعہ بین الاقوامی تعلقات میں سفارتی آداب اور نسلی حساسیت کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے، اور نیوزی لینڈ کی حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرے۔







