اسلام آباد: وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منظوری کے بغیر پٹرولیم لیوی میں کمی نہیں کر سکتی، جب تک کہ آمدنی کا کوئی متبادل ذریعہ نہ تلاش کر لیا جائے۔
انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کی پٹرولیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران کہی، جس کی صدارت عمر فاروق کر رہے تھے۔ وزیر پٹرولیم نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے آئی ایم ایف کی رضامندی ضروری ہے، اور فنڈ اس وقت تک اس کی اجازت نہیں دے گا جب تک کہ حکومتی آمدنی پر پڑنے والے اس اثر کو پورا کرنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہ دکھایا جائے۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو کم کرنے کے لیے شدید دباؤ میں ہے، لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی وجہ سے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ آمدنی کے متبادل ذرائع کی تلاش حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے تاکہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کر سکے اور ساتھ ہی مالیاتی نظم و ضبط بھی برقرار رکھے۔





