کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے میں تعلیم سے محروم 18 لاکھ بچوں کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک وسیع پیمانے پر غیر رسمی تعلیم کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وزیراعلیٰ بلوچستان نے کی، جہاں صوبے میں تعلیمی پسماندگی اور اسکول سے باہر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد ان بچوں کو بنیادی تعلیم اور ہنر فراہم کرنا ہے جو کسی بھی وجہ سے رسمی تعلیمی نظام کا حصہ نہیں بن سکے۔
غیر رسمی تعلیم کے اس پروگرام کے تحت، ایسے بچوں کو نشانہ بنایا جائے گا جن کی عمریں اسکول جانے کی ہیں لیکن وہ اسکول نہیں جا پاتے یا جنہوں نے اسکول چھوڑ دیا ہے۔ اس نظام میں لچکدار اوقات کار، کمیونٹی پر مبنی مراکز اور مقامی اساتذہ کے ذریعے تعلیم فراہم کی جائے گی۔ حکام کے مطابق، یہ پروگرام نہ صرف خواندگی کی شرح میں اضافہ کرے گا بلکہ بچوں کو زندگی کی بنیادی مہارتیں بھی سکھائے گا تاکہ وہ معاشرے کے فعال رکن بن سکیں۔ بلوچستان جیسے وسیع و عریض اور جغرافیائی طور پر مشکل صوبے میں جہاں رسمی اسکولوں تک رسائی ایک چیلنج ہے، غیر رسمی تعلیم کا یہ ماڈل انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومت نے اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور اس کے لیے مقامی کمیونٹیز، غیر سرکاری تنظیموں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ اس فیصلے کو صوبے میں انسانی وسائل کی ترقی اور سماجی و اقتصادی بہبود کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ پروگرام بلوچستان کے مستقبل کو روشن کرنے اور ایک تعلیم یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جس سے صوبے میں پائیدار ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔





