پیرو کے سابق صدر کی بدعنوانی کے الزامات میں 15 سال قید کی سزا کالعدم

لیما: پیرو کے سابق صدر اولانتا ہمالا کو بدعنوانی کے الزامات میں دی گئی 15 سال قید کی سزا کو ایک اعلیٰ عدالت نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ہمالا اور ان کی اہلیہ نادین ہریڈیا کے لیے ایک بڑی قانونی فتح ہے، جنہیں ماضی میں منی لانڈرنگ کے جرائم میں سزا سنائی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد، دونوں اب قانونی طور پر آزاد ہیں۔

اولانتا ہمالا، جنہوں نے 2011 سے 2016 تک پیرو کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، اور ان کی اہلیہ کو ان کی انتخابی مہموں کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی فنڈز حاصل کرنے کے الزامات کا سامنا تھا۔ یہ الزامات برازیل کی تعمیراتی کمپنی اوڈیبریخت (Odebrecht) سے منسلک ایک وسیع تر بدعنوانی اسکینڈل کا حصہ تھے، جس نے لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں سیاسی شخصیات کو متاثر کیا تھا۔ انہیں اور ان کی اہلیہ کو منی لانڈرنگ کے جرائم میں ملوث پایا گیا تھا، جس کے بعد انہیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم، اپیل کورٹ نے اب اس فیصلے کو پلٹ دیا ہے، جس سے ہمالا اور ہریڈیا کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پیرو کے عدالتی نظام میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں کئی سابق صدور کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس فیصلے سے ملک کی سیاسی اور قانونی صورتحال پر مزید بحث چھڑنے کا امکان ہے۔

  • Related Posts

    مودی سرکار میں ہندوتوا نظریے کا راج؛ بھارتی مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر وار

    بھارت میں نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ حکومت کے دور میں ہندوتوا نظریے کا غلبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی مسلمانوں کی مذہبی آزادی…

    اردن کے حملوں کے بعد کشیدگی میں کمی، شام نے اہم سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھول دی

    شام نے اردن کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے بعد ایک اہم سرحدی گزرگاہ کو دوبارہ کھول دیا ہے، جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی جانب…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔