دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنیاں ایران میں جاری جنگی صورتحال کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے غیر معمولی منافع کما رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کے منافع کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے ان کے حصص یافتگان کو بھاری فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
جہاں ایک طرف تیل کی بلند قیمتیں ان کمپنیوں کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہو رہی ہیں، وہیں دوسری طرف عالمی معیشت کے دیگر شعبوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی عدم استحکام نے تیل کی سپلائی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو عالمی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ نہ صرف صارفین کے لیے مہنگائی کا باعث بن رہا ہے بلکہ کاروباری لاگت میں بھی اضافہ کر رہا ہے، جس سے عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی صورتحال مستحکم نہیں ہوتی اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے خدشات کم نہیں ہوتے، تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان کم ہے۔

