یوکرینی حکام کے مطابق، روسی حملوں میں دارالحکومت کیف میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ماسکو یوکرین کے دارالحکومت پر مہلک بیلسٹک میزائل حملوں میں شدت لا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں روس نے یوکرین کے شہروں، خاص طور پر کیف کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی فضائی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کا استعمال شہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور دفاعی نظام کو اوورلوڈ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ ان حملوں میں اکثر رہائشی عمارتوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ یوکرین کی وزارت دفاع نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے روس پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے ان تازہ حملوں کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے فوری طور پر جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور یوکرین کے لیے مزید دفاعی امداد کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں شہری ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور ایسے حملے امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

