پشاور: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں پولیس فورس کی عظیم قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ پچیس سالوں کے دوران صوبائی پولیس کے 2396 اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان شہداء میں اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، جبکہ صرف گزشتہ سال (2023) میں 235 پولیس اہلکاروں نے فرض کی ادائیگی میں جام شہادت نوش کیا۔ یہ اعداد و شمار پشاور پولیس کے مرکزی ذرائع نے جاری کیے ہیں۔
شہداء میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) پولیس، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) جیسے اعلیٰ رینک کے افسران بھی شامل ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس فورس کا ہر طبقہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پیش پیش رہا ہے۔ ان افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک و قوم کے دفاع اور امن و امان کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے چیلنج کا سامنا طویل عرصے سے ہے، اور پولیس فورس اس عفریت کا مقابلہ کرنے میں سب سے آگے رہی ہے۔ ان شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور قوم ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پولیس حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ صوبے سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
