حال ہی میں ایک نئی تنقیدی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے پالیسیوں پر شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر اس تضاد کو نمایاں کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف متعدد مواقع پر انتہائی سخت بیانات اور دھمکیاں جاری کیں، لیکن عملی طور پر ان دھمکیوں پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا۔ یہ رپورٹ ٹرمپ کے دور صدارت میں ایران کے ساتھ تعلقات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں اس کے اثر و رسوخ اور اس کی میزائل سرگرمیوں کے حوالے سے بارہا سخت موقف اپنایا۔ انہوں نے ایران پر “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی مہم چلائی، جس میں اقتصادی پابندیاں اور فوجی کارروائی کی دھمکیاں شامل تھیں۔ تاہم، رپورٹ یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ان دھمکیوں کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے اکثر ایسے اقدامات سے گریز کیا جو براہ راست فوجی تصادم کا باعث بن سکتے تھے۔ یہ طرز عمل ناقدین کے نزدیک ایک “یوٹرن” یا پالیسی میں عدم تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، جس نے ایران کو اپنے اقدامات جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا۔
اس تنقیدی رپورٹ میں یہ بھی تجزیہ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کی اس غیر مستقل پالیسی نے نہ صرف امریکہ کے اتحادیوں میں بے یقینی پیدا کی بلکہ ایران کو بھی اپنی حکمت عملیوں کو ایڈجسٹ کرنے کا موقع دیا۔ رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ دھمکیوں اور عملی اقدامات کے درمیان یہ فرق امریکی خارجہ پالیسی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور مستقبل میں ایسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک واضح اور مستقل حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ یہ نئی رپورٹ امریکہ کی ایران پالیسی کے مستقبل کے بارے میں بحث کو مزید تقویت دے گی۔





