امریکہ اور جاپان نے جاپانی کرنسی ین کی گرتی ہوئی قدر کو سہارا دینے کے لیے ایک غیر معمولی اور نایاب مشترکہ اقدام کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپانی ین امریکی ڈالر کے مقابلے میں کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، جس سے جاپان کی معیشت اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش بڑھ رہی تھی۔ اس مشترکہ مداخلت کا مقصد ین کو مزید گراوٹ سے بچانا اور علاقائی و عالمی مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں اس قسم کی مشترکہ مداخلت شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے، جو دونوں ممالک کی جانب سے ین کی قدر میں تیزی سے کمی پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔ اس اقدام میں عام طور پر مرکزی بینکوں کی جانب سے ڈالر فروخت کر کے ین خریدنا شامل ہوتا ہے تاکہ اس کی طلب میں اضافہ ہو اور اس کی قدر مستحکم ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم عالمی معیشت میں جاپان کے اہم کردار اور اس کی کرنسی کے استحکام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ین کی حالیہ کمزوری کی ایک بڑی وجہ امریکہ اور جاپان کی مانیٹری پالیسیوں میں فرق ہے۔ جہاں امریکی فیڈرل ریزرو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کر رہا ہے، وہیں بینک آف جاپان اپنی نرم مالیاتی پالیسی برقرار رکھے ہوئے ہے، جس سے ین کی کشش کم ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں، دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ مداخلت ایک مضبوط پیغام ہے کہ وہ ین کی غیر مستحکم حرکتوں کو برداشت نہیں کریں گے۔
دونوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ین کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لیے مشترکہ مداخلت کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ یہ بیان مارکیٹ کے کھلاڑیوں کو ایک مضبوط پیغام ہے کہ امریکہ اور جاپان ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کے لیے تیار ہیں۔ یہ عزم عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد بحال کرنے اور قیاس آرائیوں کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت کو استحکام ملے گا۔






