واشنگٹن/تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آگئی جب ایران کے سپریم لیڈر کے ایک سینئر مشیر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے تہران کے مؤقف کا اعادہ کیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اپنی وارننگ کی تجدید کی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر میجر جنرل محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو امریکی شرائط پر دوبارہ نہیں کھولے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے بارے میں اپنے سخت انتباہ کو دہرایا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہوا۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، پر جاری یہ کشیدگی عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے اور خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے۔






