بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے ہولناک دھماکے کو چھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کا درد اور اس کے گہرے زخم آج بھی لبنانی عوام کے دلوں میں تازہ ہیں۔ 4 اگست 2020 کو پیش آنے والے اس المناک واقعے کے بعد سے، متاثرین کے لواحقین انصاف اور سچائی کی تلاش میں مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، جو ان کے لیے ایک کھلا زخم بن چکا ہے۔
اس دھماکے نے، جو کہ بندرگاہ پر غیر محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیے گئے امونیم نائٹریٹ کے باعث ہوا تھا، بیروت شہر کو تباہ کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک، ہزاروں زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوئے تھے۔ شہر کا ایک بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا اور اس کے معاشی و سماجی اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اس واقعے کی تحقیقات سیاسی مداخلت، رکاوٹوں اور عدالتی تعطل کا شکار رہی ہیں، جس نے متاثرہ خاندانوں کی مایوسی میں مزید اضافہ کیا ہے۔
متاثرین کے لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیے متعدد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور عالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ لبنانی حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ اس سانحے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس دھماکے کی اصل وجوہات، اس کے پیچھے موجود افراد اور حکومتی غفلت کو بے نقاب کیا جائے تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ یہ خاندان اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک سچ سامنے نہیں آتا اور ذمہ داروں کو سزا نہیں ملتی۔






