وزیراعظم شہباز شریف نے یوم تکبیر کو پاکستان کی جوہری تاریخ کا ایک فیصلہ کن اور اہم لمحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں خود انحصاری اور قومی وقار کی علامت ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے جوہری تجربات کر کے نہ صرف اپنی سالمیت کا تحفظ یقینی بنایا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی برقرار رکھا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیتیں ملک کے خلاف کسی بھی جارحانہ عزائم کے خلاف ایک کلیدی رکاوٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری ڈیٹرنس ہماری قومی سلامتی کا ضامن ہے اور یہ کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔ شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے ملک دشمن عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ قومی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔



