امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے، ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے جاری بات چیت عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث بن رہی ہے۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور دنیا بھر کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً پانچویں سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کا ایک کلیدی نقطہ بنی ہوئی ہے۔ اسٹریٹجک لحاظ سے یہ انتہائی حساس آبی گزرگاہ ہے جہاں ماضی میں ایران کی جانب سے اسے بند کرنے کی دھمکیاں اور مختلف واقعات پیش آتے رہے ہیں، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں خلل پڑنے کا خدشہ پیدا ہوتا رہا ہے۔ عالمی برادری اس آبنائے کی محفوظ اور بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
آبنائے ہرمز کی ممکنہ دوبارہ کشادگی کے حوالے سے جاری سفارتی کوششیں اور بات چیت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مثبت اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ان مذاکرات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہوگی اور تیل کی سپلائی میں کسی بڑے تعطل کا خطرہ ٹل جائے گا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات چیت کامیاب رہتی ہے تو عالمی معیشت کو استحکام ملے گا اور توانائی کی لاگت میں کمی آئے گی۔






